مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مندوب امیر سعید ایروانی نے مقامی وقت کے مطابق پیر کے روز انتینو گوتریش اور سلامتی کونسل کے صدر کو ایک خط میں کہا ہے کہ یہ اقدام اقوام متحدہ کے منشور کی شق 2 کے تحت طاقت کے استعمال یا دھمکی کی ممانعت کی صریح خلاف ورزی ہے اور بین الاقوامی قانون کے مطابق اسے کھلی جارحیت قرار دیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ غیر قانونی اقدام سمندری قوانین کے بنیادی اصولوں کی بھی سنگین خلاف ورزی ہے۔
ایرانی مندوب نے کہا کہ امریکہ ایران کی بندرگاہوں کی جانب اور وہاں سے سمندری آمد و رفت روکنے کی کوشش کے ذریعے نہ صرف ایران کے خودمختار حقوق میں غیر قانونی مداخلت کر رہا ہے بلکہ تیسرے ممالک کے حقوق اور جائز تجارتی سرگرمیوں کو بھی متاثر کر رہا ہے۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ ایران اس غیر قانونی اقدام کو سختی سے مسترد اور اس کی شدید مذمت کرتا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ایران بین الاقوامی قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ضروری اور متناسب اقدام کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
ایرانی مندوب نے کہا کہ امریکہ اس بین الاقوامی خلاف ورزی اور اس کے تمام نتائج، بشمول علاقائی اور عالمی امن و سلامتی پر پڑنے والے اثرات، کا مکمل ذمہ دار ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ اقدام عالمی امن کے لیے سنگین خطرہ ہے اور ایک ایسے خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتا ہے جو پہلے ہی عدم استحکام کا شکار ہے، لہٰذا ایران نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے ہوئے اس اقدام کی مذمت کریں اور فوری و مؤثر اقدامات کے ذریعے صورتحال کو مزید بگڑنے سے روکیں اور امریکہ کو اپنی غیر قانونی سرگرمیاں فوری طور پر بند کرنے کا پابند بنائیں۔
آپ کا تبصرہ